نئی دہلی، 27؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے حجاب معاملہ میں دائر کی گئی خصوصی عرضیوں پرسماعت کے لئےرضامندی ظاہر کردی ہے جس کے تحت کلاس کے اندر حجاب پہننے کی اجازت طلب کرنے والی عرضی کو کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کردیا تھا ۔
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن ، جسٹس کرشن مراری اور جسٹس ہما کوہلی کی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا کی اس دلیل پر غور کیا کہ عرضی پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ جسٹس رمن نے کہا کہ میں اسے لسٹ میں شامل کروں گا، دو دن انتظار کیجئے۔
کرناٹک ہائی کور ٹ کی سہ رکنی بینچ نے 15مارچ کو اپنے فیصلے میں حجاب کو لازمی مذہبی رواج کا حصہ ماننے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اسے دستور کی دفعہ 25کے تحت تحفظ نہیں مل سکتا۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے اُڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی گرلس کالج کی بعض مسلم طالبات کے ذریعہ دائر کی گئی اُن عرضیوں کو خارج کردیا تھا جس میں کلاس کے اندر حجاب پہن کر بیٹھنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ مسلم طالبات کے حجاب پہننے کی مخالفت کرتے ہوئے اور اُن کے سروں سے حجاب اُتارنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اے بی وی پی کے لڑکوں نے زعفرانی شال اور سر پر ٹوپی پہن کر کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے نام پر ریاستی سرکار نے 5 فروری کو ان تمام پوشاکوں کے پہننے پربھی روک لگا دی جس سے اسکول اور کالج میں مساوات، سالمیت اور عوامی نظام متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کے اس فرمان پر مسلمان لڑکیوں نے اس معاملے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ، مگر ہائی کورٹ نے 15 مارچ کی اپنی رولنگ میں یہ بھی کہا کہ سرکار کے پاس 5 فروری 2022 کے سرکاری حکم کو جاری کرنے کا اختیار ہے اور اسے غیر قانونی ٹھہرانے کا کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ کے سنائے گئے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے اُڈپی کالج کی طالبات نے بعد میں سپریم کورٹ میں اسپیشل پٹیشن دائر کی ۔ مگر گزشتہ ماہ چیف جسٹس نے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔امتحان کا حوالہ دئیے جانے پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ امتحان کا حجاب معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
اب تازہ خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں عرضی گزاروں کی طرف سے معاملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے وکیل نے کہا کہ اس پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ سے 30مارچ کورجوع کیا گیا تھا، ایک ماہ گزرجانے کے بعد بھی اب تک اس کو سماعت کے لئے شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اس معاملہ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ شادان فراست نے معاملہ کی فوری سماعت کی ضرورت کے لئے دو وجوہات کی نشاندہی کروائی۔ پہلی یہ کہ سالانہ پی یو سی دوم امتحانات جاری ہیں اور عرضی گزاروں سمیت دیگر مسلم طالبات کو امتحان لکھنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جب تک وہ اپنا حجاب اتارنہیں دیتیں،ان کو امتحان لکھنے نہیں دیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے سبب بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں سے ڈراپ آؤٹ ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے حق تعلیم کمزور ہو رہا ہے۔